Posts

Showing posts from August 23, 2015

A VISIT TO A HISTORICAL PLACE

I took A Visit to A Place of Historic Interest. I had an opportunity to visit the ruins of Taxila in far off North West of India. Leaving Madras, I took four days to reach Lahore. It took me twelve hours to reach Taxila, a distance of four hundred kilometers. The ruins of ancient Taxila are on the mountain sides in the lower ranges of the Himalayas. Getting down at the railway station, I engaged a Horse cart for five rupees to show me around all the places. It was a circuit of six miles comprising five different places and it took me four hours to do it. The first place I visited was a monastery surrounding as sputa adorned with terracotta figures of Buddha’s, life-size and life-like in their artistic execution, different form the massive bold figures of south Indian temples  The figures combined the grace and sublimity of the Indian mind under truly spiritual inspirations with the purely artistic perfections of the Greek sculptor of the classic era, the period of their execution dat

Sir Syed Ahmed Khan

سرسید احمد خان انیسویں صدی کی وہ عہد آفریں شخصیت تھے جن کی ہمہ گیری کے اثرات بیک وقت ادب ، سیاست ، معاشرت ، تعلیم ، مذہب اور صحافت پر پڑے۔ ان تمام شعبوں پر سرسید کا اثر اور گرفت ایسی بھر پور تھی کہ اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک علیحدہ دفتر کی ضرورت  یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرسید کو خدا نے ایک خاص ذہن عطا کیا تھا پھر یہ بھی ان کی خوش نصیبی تھی کہ ان کو ماں کی صورت میں ایک نہایت باوقار اور سمجھدار خاتون کی گود نصیب ہوئی جنہوں نے سرسید کے پوشیدہ جوہر کو پہچان لیا اور ان کی تربیت اس طرح کی کہ سرسید کی شخصیت ماں کی گود کی بھٹی میں تپ کر کندن بن گئی اور ایسی جگمگائی کہ تا ابداس کی جگمگاہٹ قائم رہے گی۔ خصوصاً اردو ادب اور زبان پر ان کے احسانات کے آگے ہماری گردنیں احساس ممنونیت کے ساتھ ہمیشہ خم رہیں گی۔ سرسید سے پہلے اردو ادب میں نثر کا خصوصاً علمی نثر کا وجود ہی نہ تھا۔ ادب کا دائرہ علاوہ شاعری کے مذہب ، تصوف اور تاریخ نگاری تک محدود تھا۔ غالب کی نثر بھی کوئی شعوری کوشش نثر کی اصلاح یا ارتقا کی نہ تھی بلکہ یہ وہ خطوط تھے جو وقتاً فوقتاً انہوں نے اپنے دوستوں کو لکھے اور یہ ایک حقیقت ہے ک